021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاق سے متعلق فتوی اورعلامہ ابن قیم رحمہ اللہ کی روایت کا جواب
77844طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

محمد عامر نے اپنی بیوی کو دو سال پہلے دو بار طلاق دیتے ہوئے کہا: میں تمہیں طلاق دیتاہوں، میں تمہیں طلاق دیتاہوں، پھر دو سال بعد 31.8.2022 کو دوبارہ دو بار طلاق دی اور گزشتہ الفاظ ہی استعمال کیے، کیا اب ان دونوں کا آپس میں اکٹھا رہنا صحیح ہے یا نہیں؟ ہمیں قرآن وسنت کی روشنی میں جواب دیجیے۔

o

صورتِ مسئولہ میں شوہر نے اپنی بیوی کو تین مرتبہ  صاف لفظوں میں طلاق دی ہے، لہذااس کی بیوی  پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اورحرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب  ان دونوں کا اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں۔ نیز تین طلاقوں کے بعد رجوع بھی نہیں ہو سکتا اور  موجودہ صورتِ حال میں دوبارہ نکاح بھی جائز نہیں،  البتہ اگر عورت عدت گزارنے کے بعدغیر مشروط طور پر  کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ خاوند عورت سے ہمبستری بھی کرے، پھر وہ اپنی رضامندی سے عورت کو طلاق دیدےیا وہ وفات پا جائے تو اُس خاوند کی عدتِ طلاق یا عدتِ وفات گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔

نوٹ:

واضح رہے کہ تین طلاقوں کے تین ہونے پر صحابہ کرام، ائمہ اربعہ اور امت کے جمہور مجتہدین، محدثین، فقہائے کرام، علمائے کرام اور  اہل السنت والجماعت کا اتفاق ہے، خود امام بخاری رحمہ اللہ اپنی کتاب صحیح البخاری میں تین طلاق کے تین ہونے پر روایات نقل کی ہیں، نیز منسلکہ فتوی میں علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کے حوالے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں تین طلاق کے وقوع کے فیصلے پر ندامت کی جو روایت نقل  کی گئی ہے اور پھر اس کی بنیاد پر اس فیصلے کے منسوخ ہونے کا جو دعوی کیا گیا ہے وہ صحیح نہیں، کیونکہ محدثین کے اصولوں کے مطابق یہ روایت ضعیف ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اس روایت کو امام ابوبکر اسماعیلی رحمہ اللہ کے حوالے سے نقل کیا ہے، جس کی سند میں موجود ایک راوی يزيد بن عبد الرحمن بن ابی مالك نے اس روایت کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے، جبکہ اس راوی  نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا، کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت سن 23ھ میں ہوئی، جبکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی تصریح کے مطابق یزید بن عبد الرحمن کی ولادت سن60ھ میں ہوئی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ان کے درمیان کوئی روای ساقط ہے، لہذا یہ روایت سند کے انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے ، نیز ائمہ کرام رحمہم اللہ نے اس راوی پر تدلیس کا طعن بھی کیا ہے اور فقہاء ومحدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ ضعیف روایت احکام کے باب میں قبول نہیں، خصوصاً جبکہ وہ روایت صحابہ کرام اور امت کے متفق علیہ فیصلے کے خلاف ہو، لہذا اس ضعیف روایت کی بنیاد پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے تین طلاق کے وقوع پر  ہزاروں (مطلب یہ کہ اس وقت ہزاروں صحابہ کرام حیات تھے، جن تک اس فیصلے کی خبر پہنچی، مگر کسی صحابی سے اس فیصلے کا انکار ثابت نہیں) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں کیے گئے اس فیصلے کو بغیرکسی صحیح ثبوت کے منسوخ قرار دینا درست نہیں۔

اس کے علاوہ تین طلاق کے تین ہونے کے دلائل اور منسلکہ فتوی میں ذکر کی گئی روایات کے جوابات تین طلاق سے متعلق ہمارے تفصیلی فتوی (جو کہ اس فتوی کے ساتھ منسلک ہے) میں ملاحظہ فرمائیں۔

حوالہ جات

صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261) دار طوق النجاة:
حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»
إغاثة اللهفان في مصايد الشيطان (1/ 577) ط عالم الفوائد:
قال الحافظ أبو بكر الإسماعيلي في "مسند عمر": أخبرنا أبو يَعْلىَ، حدثنا صالح بن مالك، حدثنا خالد بن يزيد بن أبي مالك، عن أبيه، قال: قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه: ما نَدِمتُ على شيء ندامتي على ثلاث: أن لا أكون حَرّمت الطلاق.
تهذيب الكمال في أسماء الرجال (32/ 189، رقم الترجمة: 7022) لجمال الدين يوسف المزي المتوفي:742ھ، مؤسسة الرسالة،  بيروت:
د س ق: يزيد بن عبد الرحمن بن أبي مالك ، واسمه هانئ، الهمداني الدمشقي الفقيه، قاضي دمشق، أخو الوليد بن عبد الرحمن بن أبي مالك، ووالد خالد بن يزيد بن أبي مالك. روى عن: أنس بن مالك (س ق) ، وجبير بن نفير، وخالد ابن معدان (ق) ، وسالم بن عبد الله بن عمر، وسعيد بن المسيب، وسليمان بن يسار، وشهر بن حوشب، وعبد الحميد بن عبد الرحمن ابن زيد بن الخطاب، وأبيه عبد الرحمن بن أبي مالك، وعطاء بن أبي رباح (ق) ، وعلقمة بن مرثد وهو من أقرانه، وعمر بن عبد العزيز، وأبي عبيد الله مسلم بن مشكم، ومعاوية بن أبي سفيان (د) وفي سماعه منه نظر، ونافع مولى ابن عمر، وواثلة بن الأسقع، وأبي إدريس الخولاني، وأبي أيوب الأنصاري مرسل. ........... وقال أبو سليمان بن زبر، عن أبيه، عن الحارث بن أبي أسامة، عن محمد بن سعد، عن الواقدي، مات سنة ثلاثين ومئة وهو ابن اثنتين وسبعين سنة، ودفن بدمشق.
وقال علي بن عبد الله التميمي، وخليفة بن خياط ، وأبو عبيد القاسم بن سلام، ومحمد بن سعد ، وغير واحد: مات سنة ثلاثين ومئة. زاد التميمي، وابن سعد: وهو ابن اثنتين وسبعين سنة. وقال أبو زرعة الدمشقي : حدثت عن الوليد بن مسلم أن يزيد بن أبي مالك كان باقيا إلى سنة ثمان وثلاثين ومئة. وقال أبو سليمان بن زبر: قال الوليد بن مسلم: فيها، يعني سنة ثمان وثلاثين ومئة، مات يزيد بن أبي مالك وهو ابن ثمان وسبعين سنة.
تهذيب التهذيب (11/ 345) أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ) مطبعة دائرة المعارف النظامية، الهند:
663-"د س ق - يزيد" بن عبد الرحمن بن أبي مالك واسمه هانئ الهمداني الدمشقي القاضي روى عن أبيه وأنس بن مالك وواثلة بن الأسقع وسعيد بن المسيب وعطاء بن أبي رباح وخالد بن معدان وغيرهم وأرسل عن أبي أيوب الأنصاري وعنه ابنه خالد وسعيد بن عبد عبد العزيز وعبد الله بن العلاء بن زبر والأوزاعي وسعيد بن أبي عروبة وسعيد بن بشير وغيرهم قال بن سميع ولاه هشيم القضاء وقال بن أبي حازم سئل أبي عنه فقال من فقهاء أهل الشام وهو ثقة وسئل أبو زرعة عنه فأثنى عليه خيرا وقال المفضل الغلابي الوليد ويزيد ابنا أبي مالك إخوان ليس بحديثهما بأس وقال الدارقطني: والبرقاني من الثقات وذكره بن حبان في الثقات وقال يعقوب بن سفيان كان قاضيا وابنه خالد في حديثهما لين وقال أبو مسهر عن سعيد بن عبد العزيز أن عمر بن عبد العزيز بعث يزيد بن أبي مالك إلى بني نمير يفقههم ويقرئهم وقال أيضا لم يكن عندنا أعلم بالقضاء منه لا مكحول ولا غيره وقال أبو الجماهر عن سعيد بن بشير كان صاحب كتب يعني أنه كان بليغا يقال ولد سنة ستين وقال بن سعد عن الواقدي مات سنة ثلاثين ومائة وهو بن اثنتين وسبعين سنة وفيها أرخه غير واحد وقال أبو زرعة الدمشقي حدثت عن الوليد بن مسلم أن يزيد بن أبي مالك كان باقيا إلى سنة ثمان وثلاثين ومائة.
المدلسين (ص: 104، رقم الترجمة: 75) أحمد بن عبد الرحيم بن الحسين الكردي ابن العراقي (المتوفى: 826هـ) دار الوفاء:      
  د س ق: يزيد بن عبد الرحمن بن أبي مالك الهمداني الدمشقي ذكره أبو مسهر بالتدليس.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

18/صفرالمظفر 1444ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔