021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
صریح طلاق سے متعلق مسئلہ (مطلقہ رجعیہ کاشوہر سے جائیداد میں حصہ کامطالبہ کرنا)
78032طلاق کے احکامصریح طلاق کابیان

سوال

میں اپنی بدچلن بیوی سے بہت تنگ ہوں، وہ مسلسل مجھے بلیک میل کر رہی ہے، وہ مجھ سے میری جائیداد میں سے حصہ کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ میں اس کو گواہوں کی موجودگی میں تحریری طلاق دے چکا ہوں، سوال یہ ہے کہ منسلکہ طلاق نامہ میں ذکر کردہ عبارت کی روشنی میں مجھے ایک واضح فتوی چاہیے کہ شریعت کی روشنی میں طلاق ہو گئی ہے یا نہیں؟ اور وہ اب میری جائیداد میں سے کسی حصہ کی مالک ہے یا نہیں؟ طلاق نامہ ساتھ منسلک ہے۔

o

سوال کے ساتھ منسلکہ طلاق نامہ میں واضح الفاظ میں مذکور ہے کہ " ميں عبد الستار شاکرانی اپنے مکمل ہوش وحواس میں اپنی زوجہ ثمینہ بیگم کو روبرو نیچے دستخط کنندہ کے طلاق دیتا ہوں" لہذا ان الفاظ سے آپ کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ شوہر عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہے اور عدت کے بعد باہمی رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔

جہاں تک جائیداد میں حق مانگنے کا تعلق ہے تو یاد رہے کہ شرعاً ہر شخص کی ملکیت علیحدہ شمار ہوتی ہے اور بغیر کسی شرعی حق کے کوئی بھی مرد یا عورت دوسرے کی جائیداد میں سے کسی حصہ کا مطالبہ نہیں کر سکتی، اگرچہ ان دونوں کے درمیان نکاح برقرار ہو،كيونكہ شرعاً خاوند کے ذمہ عورت کا صرف نان ونفقہ واجب  ہوتاہے، لہذا مذکورہ خاتون (خواہ آپ نے عدت کے دوران اس سے رجوع کر لیا ہو یا نہ) کا آپ کی جائیداد میں سے کسی حصہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں، البتہ مہر اس کا حق ہے جو کہ طلاق نامہ میں تصریح کے مطابق آپ دوگنا ادا کر چکے ہیں۔

حوالہ جات

القرآن الکریم [البقرة: 229]
{ الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ}
السنن الكبرى للبيهقي (8/ 316) دار الكتب العلمية، بيروت:
عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه , أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل مال رجل مسلم لأخيه , إلا ما أعطاه بطيب نفسه.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

29/ربيع الاول 1444ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے