021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ناشکری کے وبال سے بچنے کا طریقہ اور حل
77693جائز و ناجائزامور کا بیانغیبت،جھوٹ اور خیانت کابیان

سوال

مفتی صاحب!میں بہت پریشان ہوں،مجھےاللہ تعالیٰ نےامید لگائی تھی،میں خوش تھی،لیکن جہاں میری شادی ہوئی تھی،وہ گھر کرائے کا ہے اور خوبصورت بھی نہیں ہے،میری کم بختی میں نے زمانہ حمل میں شوہر کو بہت تنگ کیا کہ بچہ ہو جائے گا تو اس کے ساتھ یہاں کیسے رہوں گی،آئے روز گلہ شکوہ کرتی رہتی تھی،خود بھی اللہ سے بہت دعائیں مانگتی تھی اور دل میں بہت گلے شکوے تھے کہ یہاں بچے کے ساتھ کیسے رہوں گی ،اللہ کی پکڑ مجھ پر آگئی،میرا بیٹا ٹھیک ٹھاک تھا،میں ایک اور ڈاکٹر سے فون پر رابطے میں تھی اس نے مجھے کہا جس تاریخ پر ہسپتال والے بلائیں،اس پر نہ جانا ،دیر سے جانا جب تک درد ذہ شروع نہ ہو،میں اس کی باتوں میں آگئی اور ایک ہفتے کے بعد ہسپتال گئی وہاں جا کر پتہ چلا کہ میرا بچہ فوت ہو چکا ہے،میری دنیا اندھیر ہو گئی،۔مجھے ناشکری کی سزا ملی، حمل میں شوہر نے میرا بہت خیال رکھا،مگر میں نے قدر نہ کی،اس کے علاوہ سب گھر والے کہتے تھے اس کا کھانا پینا اچھا ہے،اس کا بچہ بہت صحت مند ہو گا،شاید وہ نظر بھی تھی،مگر میں بہت ناشکری ہوں ،کیا قوم سبا کی طرح مجھے دوبارہ نعمت نہیں ملے گی،کیا اللہ نعمت چھین لینے کے بعد واپس نہیں کرتے،میں بہت پریشان ہوں میری راہنمائی فرما دیں۔اس کے بعد ایک اور حمل ضائع ہو گیا ہے،اس سے پہلے میں نے شادی کیلئے بہت دعائیں کی تھیں،شادی نہیں ہو رہی تھی،اللہ کا شکر کہ شادی ہوئی،شوہر بہت اچھاملا،بس گھر اچھا نہ تھا،جس کی وجہ سے میں نے بہت ناشکری کی،میری توبہ کیسے ہو گی؟یا اللہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا؟مجھے تفصیل سے بتائیں،میں بہت پریشان ہوں،سوچ سوچ کر سر کے بال ختم ہو گئے ہیں،دعاؤں کی درخواست ہے۔

o

آپ صدق دل سے سچی توبہ کریں اوراپنے شوہر سے بھی معافی مانگیں اور آئندہ کے لیے  اللہ کی نافرمانی اورناشکری نہ کرنے کا عزم کر لیں،  ہر وقت استغفار اور  الحمد للہ کے ورد کے ساتھ اللہ کا شکر بھی ادا کرتی رہیں کہ اللہ تعالی نےبانجھ نہیں بنایا،انشاء اللہ تعالی اس طرح کرنے سے سابق گناہ بھی معاف ہوجائیں گے اور آئندہ نیک اولاد کی بھی قوی امید ہوجائے گی، بالخصوص سورت فرقان کی آخری آیات میں سے {رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا} [الفرقان: 74]   پڑھنے کا اہتمام رکھیں اور صدقہ نافلہ بھی دیتی  رہیں ان شاء اللہ تعالی نرینہ اولاد ہوجائے گی،نیز اکیلے رہنے اور فارغ رہنے کے بجائے کسی کام میں مشغول رہیں یا کسی  مجلس میں رہیں اور جائز ہنسی مزاح بھی کرتے رہیں،ایسی حالت میں تنہائی اور فراغت اور مسلسل سوچ  صحت کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 65)
(قوله: وجابر) أي ابن عبد الله. واعترض بأنه مات سنة  قبل ولادة الإمام بسنة، ومن ثم قالوا في الحديث المروي عن أبي حنيفة عن جابر - رضي الله تعالى عنه - أنه - صلى الله عليه وسلم - أمر من لم يرزق ولدا بكثرة الاستغفار والصدقة ففعل فولد له تسعة ذكور إنه حديث موضوع. ابن حجر: لكن نقل ط عن شرح الخوارزمي على مسند الإمام أن الإمام قال في سائر الأحاديث: سمعت وفي روايته عن جابر ما قال سمعت، وإنما قال عن جابر كما هو عادة التابعين في إرسال الأحاديث. ويمكن أن يقال إنه يتمشى على القول بولادة الإمام سنة  أهـ.
أقول: والحديث المذكور إن كان موجودا في مسند الإمام فغاية ما فيه أنه مرسل، وأما الحكم عليه بالوضع فلا وجه له؛ لأن الإمام حجة ثبت لا يضع ولا يروي عن وضاع.

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۷صفر۱۴۴۴ھ

n

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔