021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نافرمان بیوی کا خرچہ لازم ہے یانہیں؟
..نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

عرض یہ ہے کہ میری بیوی دو بچوں کی ماں ہے ، 2012 میں میرے سسرال والے میری بیوی کو زبردستی اپنے گھر لے گئے جواولڈ ایریا مظفر آباد لانڈھی کراچی میں ہے ،پھر میری بیوی کو لیکر کوئٹہ شفٹ ہوگئے اب عرصہ دو سال سے وہیں کوئٹہ میں اپنے ننیال میں مقیم ہیں اس عرصہ میں میں نے بارہا کوشش کی میری بیوی مجھے واپس مل جائے اور میں اپنا گھر آباد کروں لیکن نہ مل سکی ، انہوں نے مجھ سے خرچہ کا مطالبہ کیا نہ دینے پر میرے خلاف عدالت میں کیس داخل کیا ۔ اب سوال یہ ہے کہ جب بیوی کو سسرال والے زبر دستی لے گئے ،میرے بار بار مطالبہ پر بیوی واپس نہیں آرہی ہے ،بچوں سے مجھے ملنے بھی نہیں دیتے ،تو کیا ایسی نافرمان بیوی کا خرچہ میرے ذمہ لازم ہے؟

o

اگر سوال میں ذکر کردہ باتیں درست ہیں ،کہ آپ کے سسرال والے آپکی بیوی کو زبردستی لے گئے اور اس کو ابتک روکا ہواہے اورشوہر بالکل بے قصور ہے،تو یہ عورت ناشزہ کے حکم میں داخل ہونے کی وجہ سے ،شرعا نفقہ کی حقدار نہیں ،البتہ دونوں بچوں کا خرچہ شوہر کو برداشت کرنا ہوگا ،لیکن گذرے ہوئے ایام کا خرچہ نہیں ملے گا۔ یہ بھی یاد رہے کہ باپ کو بچوں کی ملاقات سے روکنا یہ بھی درست نہیں ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 575) (لا) نفقة لأحد عشر: الی قولہ ؛و (خارجة من بيته بغير حق) وهي الناشزة حتى تعود ولو بعد سفره خلافا للشافعي، والقول لها في عدم النشوز بيمينها، وتسقط به المفروضة لا المستدانة في الأصح كالموت، قيد بالخروج؛ لأنها لو مانعته من الوطء لم تكن ناشزة ﴿قوله بغير حق) ذكر محترزه بقوله بخلاف ما لو خرجت إلخ، وكذا هو احتراز عما لو خرجت حتى يدفع لها المهر ولها الخروج في مواضع مرت في المهر وسيأتي بعضها عند قوله ولا يمنعها من الخروج إلى الوالدين (قوله وهي الناشزة) أي بالمعنى الشرعي أما في اللغة فهي العاصية على الزوج المبغضة له
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔