021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تقسیمِ میراث
..میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرا نام ب ہے، میرا بیٹا پاک آرمی میں گیارہ برس سروس کے بعد جنوبی وزیرستان میں 27 اپریل 2014 کو شہید ہوگیا تھا۔ ورثاء میں شہید کی بیوہ (جوکہ دوسری شادی کرچکی ہے)، ایک بیٹی جن کا نام فاطمہ، عمر تقریباً 4 برس ہے، شہید کے والدین، اور دو بھائی اور بہن ہیں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ وراثت میں کس کا کیا حصہ بنتا ہے؟ آرمی کی طرف سے جو واجبات ملے ہیں ان میں شرعی لحاظ سے کیا کیا حصۂ وراثت بنتا ہے؟ اور کیا بیوہ کے ماں باپ اور بھائی بہنوں کا بھی کچھ حصہ بنتا ہے یا نہیں؟

o

آپ کےمرحوم بیٹے نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ،نقد رقم، سونا چاندی ،مالِ تجارت اور ہر طرح کا چھوٹا بڑا جو بھی سازوسامان چھوڑا ہے یا مرحوم کا کسی شخص یا ادارے کے ذمے جو قرض واجب الادا ہو ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے،اس میں سےسب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن كےمتوسط اخراجات اداكئے جائیں،اگر یہ اخراجات کسی نے احسان کے طور پر ادا کردئیے ہوں تو اس صورت میں یہ اخراجات ترکہ سے نہیں نکالے جائیں گے۔ پھر دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض واجب الادا ہو تو اس کو ادا کریں ، اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہ کیا ہو اور بیوی نے اپنی دلی خوشی سے معاف بھی نہ کیا ہو تو وہ بھی قرض میں شامل ہے، جو بیوہ کو دینا ضروری ہے۔اس کے بعد دیکھیں اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال میں سے ایک تہائی (3/1)مال کی حد تک اس پر عمل کریں۔ اس کے بعد جو مال بچے اس کے کُل چوبیس (24) حصے کرکے اس میں سے بیوہ کو تین (3) حصے (یعنی کل مال کا 12.5 فیصد)، بیٹی کو بارہ (12) حصے (کل مال کا 50 فیصد)، والدہ صاحبہ کو چار (4) حصے (کل مال کا 16.66 فیصد)، اور والد صاحب کو پانچ (5) حصے ( کل مال کا 20.833 فیصد) دیئے جائیں۔ مذکورہ صورت میں مرحوم کے بھائیوں اور بہن کو مرحوم کی میراث میں سے کچھ نہیں ملے گا۔ اسی طرح بیوہ کے والدین (مرحوم کے ساس، سسر) اور بھائی، بہنوں (مرحوم کے سالوں اور سالیوں) کا شرعاً مرحوم کی میراث میں حصہ نہیں بنتا۔ یہ بات بھی واضح رہے کہ دوسری شادی کرنے کی وجہ سے بیوہ میراث سے محروم نہیں ہوئی ہے، لہٰذا اس کو اس کا حصۂ میراث پورا ملے گا۔ آرمی کی طرف سے ملنے والے فنڈز اور رقوم کا حکم یہ ہے کہ ان فنڈز اور رقوم میں سے جن کا آرمی کے قوانین وضوابط کے مطابق مرحوم اپنی زندگی میں مالک یا ایسا مستحق ہوگیا تھا کہ قانوناً وہ اپنی زندگی میں ان کا مطالبہ کرسکتا تھا تو وہ مرحوم کے ترکہ میں شامل ہوکر تمام ورثاء کے درمیان اپنے اپنے حصۂ میراث کے مطابق تقسیم ہوں گی۔ البتہ وہ فنڈز وغیرہ جن کا مرحوم اپنی زندگی میں اس طرح حقدار نہیں بنا تھا، بلکہ وہ ادارہ نے ورثاء میں سے کسی کو نامزد کرکے بطورِ عطیہ دی ہو تو وہ رقم صرف اسی شخص کو ملے گی، اور اگر ادارے نے کسی کو نامزد کیے بغیر دی ہو تو پھر وہ مرحوم کے تمام ورثاء کے درمیان برابر برابر تقسیم ہوگی۔ تقسیمِ میراث کا نقشہ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں: مسئلہ:24 میـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ بیوہ بیٹی والدہ والد ثمن نصف سدس سدس مع العصوبۃ 3 12 4 5 12.5% 50% 16.66% 20.833%

حوالہ جات

القرآن الکریم: ــــــ: {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ} [النساء: 11] {فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْن} [النساء: 12] السراجی فی المیراث: رقم الصفحة:5ــــــ: قال علماؤنا رحمهم الله تعالی: تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبة: ألأول يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غیر تبذیر ولاتقتیر، ثم تقضی دیونه من جمیع ما بقی من ماله، ثم تنفذ وصایاه من ثلث ما بقی بعد الدین، ثم یقسم الباقی بین ورثته بالکتاب والسنة وإجماع الأمة. وفی صفحة:28 ــــــ: وبنو الأعیان والعلات کلهم یسقطون بالابن وابن الابن وإن سفل، وبالأب بالاتفاق.
..

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔