021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ترکہ میں موجود ایسے گھر کا حکم جس پر والد کی اجازت سے مزید تعمیر کی گئی ہو
73927میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

:میرے والد صاحب بشیر احمد کا لیاقت آباد میں چالیس گز کا مکان چھبیس لاکھ میں فروخت ہوا،والد صاحب کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں،ایک بیٹے محمد عارف کا انتقال والد صاحب سے پہلے 1990 میں ہوا،جب گھر فروخت ہوا تو محمد طارق بڑے بیٹے نے حصے کا تقاضا کیا اور کافی بات چیت اور اس کے اصرار پر والد صاحب نے اقساط کی صورت میں ساڑھے چھ لاکھ کا حصہ ادا کیا ۔

والد صاحب نے مشرقی سوسائٹی میں ایک سو بیس گز کا ایک گھر (گراؤنڈ فلور پر)بنایا،والد صاحب کا 12 اگست 2018 کو کینسر کے مرض کی وجہ سے انتقال ہوگیا،اس کے بعد بڑے بیٹے محمد طارق کا انتقال 2020 میں ہوا،والدہ ماجدہ حیات ہے،ان کے علاوہ ورثہ میں بندہ محمد شارق اور چار بہنیں ہیں، میں اپنی بہنوں اور والدہ کو والد صاحب کے میراث میں سے حصہ دینا چاہتا ہوں،میں نے والد صاحب کی اجازت سے اپنے لیے بتیس لاکھ کی رقم سے اس گھر پر دومنزلیں مزید تعمیر کیں،اب میں بہنوں کو اقساط کی صورت میں ان کا حصہ دینا چاہتا ہوں اور والدہ میرے ساتھ ہیں۔

o

1۔ مرنے سے پہلے زندگی میں کسی وارث کو اپنے مال میں سے کچھ دینا ہبہ کے حکم میں ہے،اس کی وجہ سے اس وارث کا میراث کا حصہ ختم نہیں ہوتا،اس لیے آپ کے بڑے بھائی کو اگرچہ والد نے اپنی زندگی میں میراث کے حصے کی نیت سے ساڑھے چھ لاکھ کی رقم ادا کردی تھی،لیکن اس کی وجہ سے ان کے میراث کا حصہ ختم نہیں ہوا اور آپ کے والد کی میراث میں ان کا بھی حصہ ہوگا۔

2۔میراث میں صرف ان ورثہ کو حصہ ملتا ہے جو مورث کے انتقال کے وقت زندہ ہوں،لہذا آپ کے بھائی محمد عارف جن کا انتقال والد صاحب سے پہلے ہوگیا تھا،ان کا میراث میں حصہ نہیں ہوگا۔

3۔چونکہ آپ نے دو مزید منزلیں والد صاحب کی اجازت سے اپنے لیے بنوائی تھیں،اس لیے ان دو منزلوں کے مالک  تو اکیلے آپ ہیں،البتہ زمینی منزل تمام ورثہ کی مشترکہ ملکیت ہے،لہذا اگر آپ اس مکان کے مکمل مالک بننا چاہتے ہیں تو آپ کو اس میں سے دیگر ورثہ کا حصہ دینا ہوگا،جس کا طریقہ یہ ہے کہ دوسری اور تیسری منزل کے بغیر صرف زمینی منزل کے لحاظ سے اس مکان کی قیمت لگوالیں،جو قیمت لگے اس میں آپ کے علاوہ دیگر ورثہ کا جو حصہ بنتا ہے وہ ان کے حوالے کردیں۔

دیگر ورثہ کے حصوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

زمینی منزل کی جو قیمت لگے اس میں سے٪5ء12 آپ کی والدہ کا حصہ ہے،جبکہ٪875ء21 آپ کے بڑے بھائی محمد طارق کا حصہ ہے جن کا انتقال والد کے انتقال کے بعد ہوا ہے،چونکہ وہ اب موجود نہیں،اس لیے ان کا حصہ اب ان کی وفات کے وقت موجود ورثہ کے درمیان تقسیم ہوگا اور ٪937ء10 ہرہر بہن کو دینا پڑے گا۔

حوالہ جات

"رد المحتار" (6/ 747):
"(عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها (ولو) عمر (لنفسه بلا إذنها العمارة له) ويكون غاصبا للعرصة فيؤمر بالتفريغ بطلبها ذلك (ولها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) في البناء فلا رجوع له ولو اختلفا في الإذن وعدمه، ولا بينة فالقول لمنكره بيمينه، وفي أن العمارة لها أو له فالقول له لأنه هو المتملك كما أفاده شيخنا".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :" (قوله عمر دار زوجته إلخ) على هذا التفصيل عمارة كرمها وسائر أملاكها جامع الفصولين، وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له، وله رفعه إلا أن يضر بالبناء، فيمنع ولو بنى لرب الأرض، بلا أمره ينبغي أن يكون متبرعا كما مر اهـ".
"مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر" (2/ 743):
"(ومن عمر دار زوجته بماله) أي بمال الزوج (بإذنها) أي بإذن الزوجة (فالعمارة) تكون (لها) أي للزوجة؛ لأن الملك لها وقد صح أمرها بذلك (والنفقة) التي صرفها الزوج على العمارة (دين له) أي للزوج (عليها) أي على الزوجة؛ لأنه غير متطوع فيرجع عليها لصحة الأمر فصار كالمأمور بقضاء الدين.
(وإن عمرها) أي الدار (لها) أي للزوجة (بلا إذنها) أي الزوجة (فالعمارة لها) أي للزوجة (وهو) أي الزوج في العمارة (متبرع) في الإنفاق فلا يكون له الرجوع عليها به، (وإن عمر لنفسه بلا إذنها) أي الزوجة (فالعمارة له) أي للزوج؛ لأن الآلة التي بنى بها ملكه فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه فيبقى على ملكه فيكون غاصبا للعرصة وشاغلا ملك غيره بملكه فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك كما في التبيين ".
"درر الحكام في شرح مجلة الأحكام" (2/ 340):
"رابعا - لو أعار أحد آخر حيطان داره لوضع الجذوع وتوفي المعير بعد أن وضع المستعير الجذوع على الحيطان فلوارث المعير طلب رفعها ولو شرط عند وضع الجذوع قرارها وبقاءها. وعليه فهناك فرق بين البيع مع شرط القرار والإرث معه (الدر المختار، وتكملة رد المحتار) .
خامسا - لو أعار شخص أحد ورثته عرصته ليبني فيها لنفسه بناء على هذا الوجه المذكور وتوفي المعير بعد أن أقام الوارث فيها بناء، فلباقي الورثة أن يطلبوا رفع البناء المذكور. إلا إذا اقتسم الورثة التركة وكانت العرصة من نصيب الباني".
 

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

15/محرم1443ھ

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔