021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹی کو شہوت سے ہاتھ لگانے پر حرمت مصاہرت کب ثابت ہوگی؟
74945نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

مسلسل وہم کا شکار رہتا ہوں،مفتی طارق مسعود صاحب کے ایک بیان میں سنا کہ سات سال سے بچی اگر بڑی ہوجائے تو اس کے جسم سے اپنا جسم مس مت کرو ، کیوں کہ اگر ایسا کیا اور شہوت پیدا ہوگئی تو اس کی ماں ہمیشہ کے لیے حرام ہوجائے گی ،وہم کی وجہ سے بچیوں کو ہاتھ نہیں لگاتا، وہم کا علاج اور اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔

o

بیٹی کو شہوت سے ہاتھ لگانے کی وجہ سے نکاح پر اثر پڑنے کے حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ  بیٹی کو ۱)شہوت سے ہاتھ لگایا ہو،۲)درمیان میں کوئی حائل ایسا نہ ہو جو بدن کی حرارت محسوس کرنے سے مانع ہو مثلاً کوئی موٹا کپڑا وغیرہ،۳)بیٹی کی عمر نو سال سے کم نہ ہو، اگر یہ تمام شرائط پائی  جائیں تو  حرمت مصاہرت ثابت ہوگی اور لڑکی کی ماں ہمیشہ کے لیے حرام ہوجائے گی اور اگر  ان شرائط میں سے ایک بھی نہ پائی جائے تو حرمت ثابت نہیں ہوگی۔

رہی بات وہم کے علاج کی تو اس سلسلے میں اپنے قریب کسی اہل اللہ کو تلاش کریں اور ان کی مجالس میں شرکت کریں اور ان سے وہم کا علاج کروائیں۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 106)
وقال الفقيه أبو الليث ما دون تسع سنين لا تكون مشتهاة وعليه الفتوى اهـ.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 260)
وكذا تثبت بالوطء في النكاح الفاسد وكذا بالوطء عن شبهة بالإجماع، وتثبت باللمس فيهما عن شهوة وبالنظر إلى فرجها عن شهوة عندنا ولا تثبت بالنظر إلى سائر الأعضاء بشهوة ولا بمس سائر الأعضاء إلا عن شهوة بلا خلاف.
وتفسير الشهوة هي أن يشتهي بقلبه ويعرف ذلك بإقراره؛ لأنه باطن لا وقوف عليه لغيره، وتحرك الآلة وانتشارها هل هو شرط تحقيق الشهوة؟ اختلف المشايخ فيه قال بعضهم: شرط.وقال بعضهم: ليس بشرط هو الصحيح؛ لأن المس والنظر عن شهوة يتحقق بدون ذلك كالعنين والمجبوب ونحو ذلك.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (2/ 107)
والمس بشهوة كالجماع لما روينا ولأنه يفضي إلى الجماع فأقيم مقامه، وإن كان بينهما حائل فإن وصل حرارة البدن إلى يده تثبت الحرمة وإلا فلا.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

16/ جمادی الاولیٰ۱۴۴۳ھ

n

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔